سونے سے پہلے قرآنی آیات
آیت الکرسی2:255
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌۭ وَلَا نَوْمٌۭ ۚ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىْءٍۢ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ ۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ
اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اونگھ لگتی ہے زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے کون ہے جو اُس کی جناب میں اُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی الّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی اُن کو دینا چاہے اُس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے
سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات2:285–286
ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّن رُّسُلِهِۦ ۚ وَقَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ
رسول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اِس رسول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اوراس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ: "ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی مالک! ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے"
لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًۭا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ
اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اسی پر ہے (ایمان لانے والو! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں، ان پر گرفت نہ کر مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے پروردگار! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پر نہ رکھ، ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے در گزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر
سورۃ الاخلاص112:1–4
قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
کہو، وہ اللہ ہے، یکتا
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ
اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد
وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے
سورۃ الفلق113:1–5
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی
مِن شَرِّ مَا خَلَقَ
ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ
اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے
وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ
اور گرہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے
سورۃ الناس114:1–6
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب
مَلِكِ ٱلنَّاسِ
انسانوں کے بادشاہ
إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ
انسانوں کے حقیقی معبود کی
مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ
اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے
ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے
مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ
خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے
سونے سے پہلے، ایک صحیح حدیث آیت الکرسی سکھاتی ہے، ایک اور رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات سکھاتی ہے، اور ایک اور تین قل سکھاتی ہے۔ اس صفحے پر وہ اسی ترتیب میں چلتی ہیں: 2:255، پھر 2:285–286، پھر الاخلاص، الفلق، اور الناس۔
عربی اور ترجمہ، آپ کے منتخب قاری کے ساتھ ترتیب سے چلایا جاتا ہے۔
عام سوالات
- سونے سے پہلے قرآن کی کون سی آیات پڑھنی چاہییں؟
- اس صفحے پر رات کا مجموعہ آیت الکرسی (2:255)، سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات (2:285–286)، اور تین قل ہیں: الاخلاص، الفلق، اور الناس۔ ان میں سے ہر حصے کو صحیح حدیث میں رات کے لیے سکھایا گیا ہے۔
- نبی اکرم ﷺ سونے سے پہلے تین قل کیسے پڑھتے تھے؟
- آپ ﷺ الاخلاص، الفلق، اور الناس پڑھتے، پھر اپنے ہاتھوں میں پھونکتے اور انہیں اپنے جسم پر پھیرتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک صحیح روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ یہ تین بار کرتے تھے۔