بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلْعَٰدِيَٰتِ ضَبْحًۭا
قسم ہے اُن (گھوڑوں) کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں
سُورَةُ العَادِيَاتِ
صبح کے وقت حملہ آور گھوڑوں کی قسم کھاتی ہے، جو ہانپتے ہیں اور چنگاریاں اڑاتے ہیں، تاکہ انسان کی اپنے رب سے ناشکری کو آشکار کرے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلْعَٰدِيَٰتِ ضَبْحًۭا
قسم ہے اُن (گھوڑوں) کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں
فَٱلْمُورِيَٰتِ قَدْحًۭا
پھر (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں جھاڑتے ہیں
فَٱلْمُغِيرَٰتِ صُبْحًۭا
پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں
فَأَثَرْنَ بِهِۦ نَقْعًۭا
پھر اس موقع پر گرد و غبار اڑاتے ہیں
فَوَسَطْنَ بِهِۦ جَمْعًا
پھر اِسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جا گھستے ہیں
إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٌۭ
حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے
وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌۭ
اور وہ خود اِس پر گواہ ہے
وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلْخَيْرِ لَشَدِيدٌ
اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے
۞ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِى ٱلْقُبُورِ
تو کیا وہ اُس حقیقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا
وَحُصِّلَ مَا فِى ٱلصُّدُورِ
اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اُسے برآمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟
إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍۢ لَّخَبِيرٌۢ
یقیناً اُن کا رب اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا