بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَٰبِ ٱلْفِيلِ
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟
سُورَةُ الفِيلِ
نبی ﷺ کی پیدائش کے سال کا واقعہ یاد دلاتی ہے، جب اللہ نے ابرہہ کے لشکر اور اس کے ہاتھی کو کعبہ سے پرندوں کے جھنڈوں کے ذریعے واپس کر دیا۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَٰبِ ٱلْفِيلِ
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِى تَضْلِيلٍۢ
کیا اُس نے اُن کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ
اور اُن پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے
تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍۢ مِّن سِجِّيلٍۢ
جو اُن پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍۢ مَّأْكُولٍۭ
پھر اُن کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا