بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ لِإِيلَٰفِ قُرَيْشٍ
چونکہ قریش مانوس ہوئے
سُورَةُ قُرَيۡشٍ
نبی ﷺ کے قبیلے قریش کو اس امن اور رزق کی یاد دلاتی ہے جو انہیں سردیوں اور گرمیوں کے تجارتی سفروں سے حاصل تھا۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ لِإِيلَٰفِ قُرَيْشٍ
چونکہ قریش مانوس ہوئے
إِۦلَٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ
(یعنی) جاڑے اور گرمی کے سفروں سے مانوس
فَلْيَعْبُدُوا۟ رَبَّ هَٰذَا ٱلْبَيْتِ
لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اِس گھر کے رب کی عبادت کریں
ٱلَّذِىٓ أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍۢ وَءَامَنَهُم مِّنْ خَوْفٍۭ
جس نے اُنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا