موضوع کے لحاظ سے آیات

عاجزی کے بارے میں قرآنی آیات

قرآن رحمان کے عاجز بندوں کی تعریف کرتا ہے اور ہمارے رویے میں تکبر سے خبردار کرتا ہے۔ یہ آیات اللہ کے سامنے عاجزی اور لوگوں کے ساتھ نرمی کو بیان کرتی ہیں۔

یہ انتخاب غور و فکر کے لیے ابتدائی نکات ہیں۔ آیات کو ہمیشہ ان کے مکمل سیاق و سباق میں پڑھیں۔

منتخب آیات

  1. وَعِبَادُ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى ٱلْأَرْضِ هَوْنًۭا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلْجَٰهِلُونَ قَالُوا۟ سَلَٰمًۭا

    رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام

  2. ۞ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ ٱلْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ

    کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت اُن پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟

  3. وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍۢ فَخُورٍۢ

    اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا

عام سوالات

قرآن رحمن کے بندوں کو کیسے بیان کرتا ہے؟
سورہ الفرقان 25:63 میں انہیں ایسے لوگوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جاہلوں کو سلامتی سے جواب دیتے ہیں۔

ایک مختلف زاویہ کی ضرورت ہے؟ عاجزی تلاش کریں